اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ايران كے وزير دفاع اور لاجسٹك نے كہا ہے كہ ايران كي ناقابل تسخير طاقت بالخصوص ميزائل قابليت كے خلاف دشمنوں كي دھمكي اور پابنديوں كا وطن عزيز اسلامي جمہوريہ ايران كي دفاعي طاقت كو كمزور كرنا ہے.
يہ بات بريگيڈيئر جنرل 'امير حاتمي' نے منگل كے روز تہران ميں محكمہ دفاع اور مسلح افواج كے تعاون سے منعقدہ ايك دفاعي كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئے كہي.
انہوں نے مزيد كہا كہ ہماري تمام دفاعي اور سيكورٹي سرگرمياں، اسلامي جمہوريہ ايران كے آئين اور بين الاقوامي قانون كے فريم ورك كے تحت ہيں مگر سامراجي طاقتيں، اپنے بے بنياد، جھوٹ اور خود ساختہ دعووں كے ساتھ ايران كي ناقابل تسخير دفاعي طاقت كو كمزور كرنا چاہتے ہيں.
انہوں نے كہا كہ في الحال ہم تمام قانوني آلات كے استعمال كے ذريعے ان پابنديوں كے منفي اثرات كو كم كرنے كي كوشش كرنا ناگزير ہيں لہذا ہم اس حوالے سے كسي كو ايران كي دفاعي طاقت پر نقصان پہنچانے كي ہرگزاجازت نہيں ديں گے.
انہوں نے كہا كہ قانوني مسائل كي ماہرين كو بين الاقوامي قانون كے فريم ورك كے اندر ان مسائل سے نمٹنے كے لئے مناسب حل كي مزيد كوشش كرني چاہيے.
جنرل حاتمي نے كہا كہ ايران كي ميزائل صلاحيت كي دہمكي، صرف عالمي سامراج كا مقصد نہيں بلكہ ہمارے دشمنوں كي مرضي ايران كے ہمسائہ ممالك ميں بد امني اور عدم استحكام كے قيام ہے جو الحمدالله موجودہ صورتحال ميں دشمن كي مرضي كے خلاف شام اور عراق كي سيكورٹي صورتحال بہت اچھي ہے.
ايراني وزير نے مزيد كہا كہ دشمن نے ايراني عوام كے درميان تفرقہ ڈالنے كي بہت كوشش كي ہے ليكن اس حوالے سے ناكام ہے كيونكہ ہميشہ ايراني عوام اور حكومت كے درميان مضبوط اتحاد و وحدت كي فضا قائم ہے.
انہوں نے بين الاقوامي معاہدوں كے شعبے ميں نئي ہتھياروں كے استعمال كے حقوق كے حوالے سے كہا كہ اس حوالے سے ہم كو چاہيے اس ميدان ميں اپنے حقوق كا تحفظ اور مسلح افواج ميں ماہر افراد كے استعمال كے ساتھ انساني قوت كے معيار ميں اضافہ كريں.
تفصيلات كے مطابق، اس كانفرنس ميں ملك كے حكومتي حكام، فوجي رہنماؤں، حكومت اور مسلح افواج كے قانوني ماہرين، ايراني عدليہ اور ايراني پارليمنٹ كے اراكين نے بھي شركت كي ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲